حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شیعہ علماء کونسل پاکستان ضلع راولپنڈی کے زیر اہتمام ’’تجدیدِ عہدِ وفا‘‘ کے عنوان سے ایک اہم تنظیمی کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی نائب صدر علامہ عارف حسین واحدی نے شرکت اور خطاب کیا۔
کانفرنس میں ضلع بھر سے تنظیمی کارکنان، عہدیداران اور علماء کرام نے بھرپور شرکت کی۔
اس موقع پر علامہ عارف حسین واحدی نے مختلف علمائے کرام اور تنظیمی کارکنان سے ملاقاتیں بھی کیں۔

کانفرنس سے شیعہ علماء کونسل پاکستان کے صوبائی صدر علامہ سید اشتیاق حسین کاظمی اور نائب صدر مولانا عمران حیدری نے بھی خطاب کیا۔
اختتامی خطاب کرتے ہوئے مرکزی نائب صدر علامہ عارف حسین واحدی نے ضلعی تنظیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ’’تجدیدِ عہدِ وفا‘‘ کانفرنس کے انعقاد پر ضلعی عہدیداران اور کارکنان کو خراجِ تحسین پیش کیا اسی طرح صوبائی صدر محترم کی کاوشوں اور کاوشوں کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ یونٹ کی سطح سے مرکز تک تنظیمی کارکنان کی فکری، عقیدتی، دینی، اخلاقی، سیاسی اور تنظیمی تربیت کے لیے باقاعدگی سے تربیتی ورکشاپس کا انعقاد ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ تنظیمی کارکن کسی بھی نظریاتی تنظیم کا سرمایہ ہوتے ہیں، لیکن جب تک کارکنان کی عقیدتی اور اخلاقی تربیت نہیں ہوگی، تنظیم اپنے مقاصد کو مؤثر انداز میں حاصل نہیں کرسکتی۔ اسی طرح تنظیمی تربیت کے بغیر ایک مضبوط اور منظم تنظیمی نیٹ ورک تشکیل دینا بھی ممکن نہیں۔ ہمیں تنظیمی ڈھانچے کو مزید مضبوط، فعال اور مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔

علامہ عارف حسین واحدی نے کہا کہ تنظیم کے اندر اختلافِ رائے اور مثبت و دستوری تنقید کو ہمیشہ مثبت انداز میں لیا جانا چاہیے۔ اختلافِ رائے فطری امر ہے، لیکن جب اختلاف تنازع کی شکل اختیار کرلے، انا پرستی، ضد، باہمی رنجش، کینہ تک پہنچ جائے اور دھڑے بندی شروع ھو جائے تو یہ تنظیم کے لیے انتہائی نقصان دہ بن جاتا ہے۔ اس لیے کارکنان کی ایسی تربیت ضروری ہے کہ اختلاف کو تنازع بننے سے پہلے ہی مناسب تنظیمی فورم پر حل کیا جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ اگر اختلاف یونٹ کی سطح پر ہو تو یونٹ صدر اسے حل کرنے کا ذمہ دار ہے، تحصیل کی سطح کا مسئلہ ہو تو تحصیل صدر، ذیلی تنظیم کی سطح کا معاملہ ہو تو متعلقہ ذیلی صدر، صوبائی سطح کا مسئلہ ہو تو صوبائی صدر اور مرکزی سطح کے معاملات کو مرکزی قیادت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ اگر کسی سطح پر مسئلہ حل نہ ہو تو اسے مناسب طریقے سے اعلیٰ قیادت کے سامنے ریفر کیا جائے، لیکن کسی بھی صورت میں اسے انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک الٰہی، نظریاتی اور دینی تنظیم میں مثبت تنقید کو برداشت کرنے کا حوصلہ، کارکنان کے سوالات کے اطمینان بخش جوابات اور ان کے تحفظات کا خندہ پیشانی سے ازالہ ضروری ہے۔ عہدیداران کی ذمہ داری ہے کہ وہ کارکنان کو مطمئن کریں، ان کے دلوں میں کسی قسم کی رنجش، کینہ یا ناراضگی پیدا نہ ہونے دیں۔ اگر مقدس اور الٰہی اہداف کے لیے کام کرتے ہوئے ہماری نیت خالص ہو تو یہ جدوجہد عبادت کا درجہ رکھتی ہے، لیکن اگر اس میں انا پرستی، ضد اور باہمی تنازعات شامل ہوجائیں تو اس کے مقاصد متاثر ہوتے ہیں۔
علامہ عارف حسین واحدی نے کہا کہ ہمیں یہ فخر حاصل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں علامہ سید ساجد علی نقوی کی صورت میں ایک مدبر، با بصیرت اور دوراندیش قیادت عطا فرمائی ہے۔ ہمیں اپنی قابل فخر قیادت کے بازو مضبوط کرنے اور قومی پلیٹ فارم کو مزید مستحکم بنانے کے لیے متحد ہوکر کردار ادا کرنا ہوگا، تاکہ قومی و ملی امور کو بہتر انداز میں آگے بڑھایا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے سب سے بڑی ذمہ داری تنظیمی عہدیداران کی ہے۔ یونٹ سے مرکز تک ہر عہدیدار کو سب سے پہلے خود اس اصول پر عمل کرنا ہوگا کہ وہ اختلافِ رائے اور دستوری تنقید کو مثبت انداز میں قبول کرے گا-
مرکزی نائب صدر نے مزید کہا کہ تنظیمیں اسی وقت آگے بڑھتی اور مضبوط ہوتی ہیں جب ان کے اندر محبت، اخوت، برداشت، نظم و ضبط اور باہمی اعتماد موجود ہو، اور قومیں بھی اسی جذبۂ وحدت و اخوت سے پروان چڑھتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہماری قیادت نے الحمدللہ پاکستان میں تمام مکاتبِ فکر اور مذاہب کے درمیان اتحاد، وحدت اور بین المسالک و بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ایک طویل اور مؤثر کردار ادا کیا ہے۔ ہمیں جہاں دیگر مکاتبِ فکر اور مذاہب کے ساتھ اتحاد و وحدت کو فروغ دینا ہے، وہاں اپنی صفوں کے اندر بھی محبت، اخوت، وحدت اور باہمی اعتماد کو مضبوط کرنا ہے۔









آپ کا تبصرہ